|
Getting your Trinity Audio player ready...
|
مومینہ تنظیم کے زیر اہتمام درجنوں بچے، ضعیف اور بیوہ کو مالی امداد دیا گیا
حاجی پور ( نیوز سروس) شہر واقع ایس ڈی او روڈ واقع جناب محمد نثار عرف وکیل صاحب کی رہائش گاہ پر شام میں ایک ایسی بابرکت محفل منعقد ہوئی جس میں خدمتِ خلق کا جذبہ محض الفاظ تک محدود نہ رہا بلکہ عمل کی صورت میں جلوہ گر ہوا۔ پروگرام مومینہ تنظیم کے زیرِ اہتمام منعقد ہوا۔جس کے بانی جناب محمد نثار عرف وکیل وارثی صاحب ہیں—وہ شخصیت جن کے دل میں انسانیت کا درد اور نگاہ میں ایک وسیع تر سماجی شعور موجزن ہے۔ جنہوں نے اپنی طرف سے تعلیم پانے والے بچے، بچیوں کو، ضعیف اور بیوہ کو مالی تعاون دینے کافیصلہ لیا اور یہ سالوں بھر دیا جائے گا ۔ اس موقع پر درجنوں بچے، ضعیف اور بیوہ کو مالی امداد دیا گیا ۔ اس تقریب کی صدارت اردو ایکشن کمیٹی ویشالی کے صدر جناب محمد عظیم الدین انصاری صاحب نے فرمائی۔ جن کے سنجیدہ افکار اور متوازن قیادت نے محفل کو وقار بخشا جبکہ نظامت کے فرائض اسامہ فاروقی نے نہایت فصاحت و بلاغت کے ساتھ انجام دیے اور سامعین کو ایک فکری ربط میں پروئے رکھا۔مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے جناب شاہد رضا ویشالوی کی شرکت نے تقریب کو ایک خاص معنویت عطا کی، جب کہ مہمانِ اعزازی کے طور پر جناب محمد توحید عالم اور جناب محمد توقیر عالم صاحب کی آمد اس محفل کے لیے باعثِ افتخار رہی۔ اسی طرح ویشالوی ضلع کے مشہور صحافی جناب محمد شاہ نواز عطا صاحب نے بطور مہمانِ ذی وقار شرکت فرما کر تقریب کی رونق میں اضافہ کیا۔ یہ محفل اس وقت اپنے عروج کو پہنچی جب ان معزز مہمانوں کے ہاتھوں مستحق بچوں میں امدادی رقم تقسیم کی گئی۔ یہ منظر محض ایک رسمی عمل نہ تھا بلکہ اس میں انسانیت کے اس جوہر کی جھلک تھی جو دلوں کو جوڑتا اور معاشرے کو استحکام بخشتا ہے۔ اختتامِ تقریب پر جناب محمد نثار عرف وکیل وارثی صاحب نے نہایت پرخلوص انداز میں تمام مہمانانِ گرامی اور شرکائے محفل کا شکریہ ادا کیا، اور اس عزم کا اظہار کیا کہ یہ چراغِ خدمت آئندہ بھی اسی طرح روشن رہے گا۔ اس بامقصد اجتماع میں جناب محمد شاہ جہاں صاحب، محمود عالم صاحب، منیر الدین انصاری صاحب، محمد اسلام صاحب، محمد مسلم صاحب، محمد آصف عطا صاحب، محمد شاہ فیصل صاحب اور شہاب الدین صاحب کے علاوہ دیگر معزز شخصیات کی بھرپور شرکت رہی۔ یوں یہ محفل نہ صرف ایک تقریب بنی بلکہ ایک فکر، ایک پیغام اور ایک عملی تحریک کی صورت میں سامنے آئی جو دیر تک اہلِ دل کے اذہان میں زندہ رہے گی۔

